حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے تقوائے الٰہی کی تلقین کی اور مریضوں، پریشان حال مومنین و مومنات اور امتحانات میں شریک طلبہ کے لیے دعا کی۔
علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں عقل، مال، اقتدار اور مصیبت کو انسانی زندگی کی آزمائشوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ عقل کا درست استعمال، مال پر شکر، اقتدار میں عدل و خدمت اور مصائب میں صبر و توکل انسان کے لیے کامیابی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگیوں کو صبر و استقامت کی روشن مثالیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات انسانی زندگی کا حصہ ہیں، تاہم ایمان، صبر اور توکل انسان کو بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی قوت فراہم کرتے ہیں۔

قرآنی تعلیمات اور معاشرتی ذمہ داری
علامہ محمد حسن جعفری نے سورۂ نحل کی آیت 90 کی روشنی میں عدل، احسان اور صلۂ رحمی اختیار کرنے اور فحشاء، منکر اور ظلم و زیادتی سے اجتناب کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی یہ تعلیمات ایک صالح، عادل اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے میں کسی فرد کے بارے میں بغیر تحقیق گفتگو، الزام تراشی یا کردار کشی سے اجتناب کیا جائے۔ ان کے مطابق غیبت اور کسی کی شخصیت کو مجروح کرنا شرعی و اخلاقی طور پر سنگین عمل ہے، اس لیے اختلافات اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے تحقیق، احتیاط اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
نوجوانوں میں امید اور زندگی کا شعور
خطبے کے ایک اہم حصے میں علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے سکردو اور گرد و نواح میں خودکشی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو درپیش مسائل کو محض ایک فرد کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے معاشرتی سطح پر سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات، گھریلو مسائل، تعلیمی دباؤ، امتحانات میں ناکامی کا خوف اور بعض نامکمل خواہشات نوجوانوں کو ذہنی و جذباتی دباؤ سے دوچار کرسکتی ہیں۔ انہوں نے حکومت، علماء، والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں پر زور دیا کہ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے، ان کی رہنمائی اور مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
علامہ محمد حسن جعفری نے نوجوانوں کے دینی عقائد، بالخصوص قیامت اور آخرت پر ایمان کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں دنیاوی ناکامیوں کو زندگی کا اختتام سمجھنے کے بجائے صبر، امید، حوصلے اور توکل کے ساتھ حالات کا سامنا کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت نوجوان نسل کے لیے صبر، استقامت، اخلاق اور مقصدِ زندگی کے شعور کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے علماء اور دینی رہنماؤں سے بھی نوجوانوں کی زبان اور موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ان تک دینی پیغام پہنچانے اور انہیں عملی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے فکری و اخلاقی رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بلتستان کے عوامی مسائل کی طرف توجہ
خطبے کے آخری حصے میں علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے سکردو اور بلتستان کو درپیش بعض عوامی مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے سکردو حلقے کے رکنِ اسمبلی و وزیرِ برقیات کی جانب سے دل اور کینسر کے ہسپتال کے لیے 20 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے جانے کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے سکردو میں بجلی کی مسلسل قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس بنیادی مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے غواڑی پاور پراجیکٹ کے حوالے سے موجودہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور ان کے معاونین کی جانب سے تعاون اور پیش رفت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ منصوبے کی تکمیل سے بلتستان میں بجلی کے بحران کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
خطبے کے اختتام پر علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ، صبر، استقامت، نوجوان نسل کی صحیح تربیت اور معاشرے میں قرآنی تعلیمات کے فروغ کی توفیق کی دعا کی۔









آپ کا تبصرہ